PJ Meer:
ثمن اور صحافت:
انداز بیاں گرچہ میرا شوق نہیں ہے شاید کے اتر جائے تیرے دل میں میری بات
پی جے میرسے ریڈیو میںگفتگو کا موقع ملا انٹر ویو لینے کے بعد ڈیلی سر زمین کے ذریعےاپنی گفتگو آپ تک پہنچا رہی ہوں ۔پی جے میرصاحب پاکستان کی صحافت کی دنیا کے چمکتے ہوئے ستاروں میں سے ایک ستارہ ہیںپاکستان کے نامور جرنلسٹ پرویز جمیل میر جو کہ پی جے میر کے نام سے مشہور ہیں ۔پاکستان کے نامور صحافیوں میں سےایک ہیں۔Din Newsکہ یہ پریزیڈنٹ تین شوز کو hostکر رہے ہیں جن میں سے ان کا شو Q&A With PJ Mirبےحد مقبولیت کا حامل ہے۔ایک چیز جو ان کے شو کو منفرد کرتی ہے وہ یہ کہ میر نے نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی وزیر اعظم اور وزیر اعلی کے بھی انٹرویو ز کیے۔میر نے میڈیا میں خدمات سر انجام دینےکے علاوہ پاکستان آرمی میں بھی کام کیا اور کرکٹ میں بےحد نام کمایا۔آج ان سے باتیں کرنے کا موقع ملا بوم ایف ایم کے ذریعے،آئیں ان سے ملیں۔
میرااس فیچر(انٹر ویو )کو پبلش کرانے کا خاص مقصد یہ ہے کہ یوتھ اس کو پڑھ کر تلقین حاصل کرئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمن اسد: آپ کا نام P J Mir کیسے پڑاکیونکہ پرویز جمیل میر تو اپنے آپ میں ایک کھڑکتا ہوا نام ہے ؟
پی جے میر:(مسکراتے ہوے)یہ نام میرا تکے سے پڑ گیا۔جب میں Englandمیں تھا تو وہاں کے لوگوں سےپرویز نہیں بولا جاتا تھا وہ مجھے ""پاوے""کہہ کے بلانے لگے تو اس وقت میں نے ان کوکہا کہ اگر پرویز نہیں بولا جاتاتو PJکہہ دو ۔ویسے مجھے فیملی میں تو پرویز ہی کہا جاتا ہے۔
ثمن اسد: تعلیم کا آغازکہاں سے کیا؟
پی جے میر:آغاز تو پنڈی سے کیاCantonment Public Secondary School سے پھر لاہور سے Cathedral Schoolسے اور پھر گورنمنٹ کالج لاہور اور پھر Englandچلا گیا۔
ثمن اسد: کریر کا آغازکہاں سے کیا؟
پی جے میر:سب سے پہلے آرمی میں گیا پھر کیونکہ کالج میں کرکٹ میں بہت آگے رہا تو پاکستان کرکٹ ٹیم میں شمولیت اختیار کی اس کے بعد میڈیا میں آ گیا۔
ثمن اسد: آرمی کونسے سن میں جوائن کی اور آرمی میں کتنے سال گزارے؟
پی جے میر: میں نےآرمی1971 میںجوائن کی اور آرمی میں زیادہ نہیں ڈیڑھ سال گزارےپھرجب سیز فائر ہوا تو چھوڑ دیا۔
گفتگو کے آغاز سے میں ان کی شخصیت سے بہت متاثر ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمن اسد: آرمی سے آپ کرکٹ ٹیم میں آ گئے۔کرکٹ میں آپ بطور بالررہے یا بیٹسمین؟
پی جے میر:آل راونڈر۔اس وقت پاکستان کرکٹ ٹیم میں دو ہی آل راونڈرتھے۔عمران اور میں۔ہم دونوںاکٹھے کھیلتے تھے۔
ثمن اسد: کرکٹ میں کس سے متاثرتھے؟
پی جے میر:Viven Richardنے مجھے بہت متاثرکیا۔
ثمن اسد:کرکٹ سے میڈیامیںکیسے آنا ہوا؟
پی جے میر:پنڈی میںمیچ کے دوران جب میں88رنزبناکر آوٹ ہو کے نکلا تو PTVمیچ دیکھا رہا تھا۔وہاں میرا لمبا انٹرویو ہوا۔وہاں سے میرا شوق بڑھا۔میں نے بھی کرکٹ کمنٹری سے آغاز کیا۔
ثمن اسد: میڈیا میں کس چینل سے آغاز کیا؟
پی جے میر:پاکستان میں PTV سے بطور کرکٹ کمینٹیٹرپھرکیونکہ انگلینڈ رہازیادہ تر وہاںTv Asiaشروع کیاجو آج Zee TVہےدو بھائی تھےجو انڈیاسے تھے اجیتا بچن اور امیتاب بچن اور یہاں سے فیصل شیرجان،طاہر خان اور جاوید پاشا۔پھر جب یہ Zee TVبن گیا تو چھوڑ دیااس کے بعدہم نے شروع کیا " پا""کستان چینل""""جو آج ARY Digitalسے جانا جاتا ہے۔آج میں فخرسے کہہ سکتا ہوںکہ ہم نے ایک کمرے سے کام شروع کیا اور آج یہ ایک بڑا چینل ہے۔
ثمن اسد: ARYچھوڑ کر DIN Newsجوائن کرنے کی خاص وجہ؟
پی جے میر:کیونکہ انسان زندگی میں آگے بڑ ھتا رہتا ہےاسی لیے میں نے یہاں جوائن کیا۔
ثمن اسد:2007میں آپ نے پاکستان کرکٹ ٹیم میں بطورمیڈیا مینیجر کام کیا ؟
پی جے میر:ہاں کیونکہ اس وقت پاکستان کا عکس بہت برا جا رہا تھا دوسرے ممالک میں۔اس وقت یہ باتیں ہوتی تھیں کہ پاکستان کا امیج ٹھیک کرنا ہے یہ جو forign pressوالےتھے ایسے سوال کر دیتے کہ جب ہمارے لڑکےجواب دیتے تو اسے mis construeکیا جاتاکیونکہ ہمارے لڑکے انگریزی میں اچھے نہیں تھےان دنوں انزمام کیپٹن تھے تو میں نے کہا کہ جس نے بات کرنی ہے وہ اردو میں کرے اور اس بات کو میں انگریزی میں ٹرانسلیٹ کر کے بتاتا تھا۔تو press conferenceکے بعد انزمام اردو میں جواب دیتے اور میںانگلش میں ٹرانسلیٹ کر کے بتاتا تھا۔تو یہ SOPتھی۔
ثمن اسد:لوگوں کا کہنا ہے دوسرےشعبوں کی طرح کرکٹ میں بھی نئے ٹیلنٹ کو آگے نہیں آنے دیا جا رہا آپ agreeکرتے ہیں؟
پی جے میر:ہاں بلکل ایسے ہی ہےہمارے سلیکٹرز over the period میڈیاوکر سے رہے ہیں انھوں نے کبھی persistنہیں کیااور یہی وجہ ہے کہ اچھے لڑکوں کو کبھی ٹھہرنے نہیں دیتے۔میں دل سے کہتا ہوںغریب لڑکوں کو یہ chanceنہیں دیتے۔سفارشی اندر ڈال دیتے ہیں۔
ثمن اسد:ویسے آپ کس شعبے کو سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا یہ شعبہ ٹھیک کام کر رہا ہےاورکس شعبے کو صیح کرنے کی ضرورت ہے۔
پی جے میر:دیکھیں پاکستان آرمی کا یہ شعبہ آج اس لیے کامیاب ہے کہ ایک حکم ہوتاہے اور اس پہ عمل ہوجاتا ہے ۔اگر پاکستان کے ہر شعبے کی مینجمینٹ ایسے ہی کام کرنے لگے تو بہت اچھا ہو گا۔
آپ سے بات کر کے بہت اچھا لگا۔آپکا بہت شکریہ کے آپ شو میں تشریف لائے۔انشااللہ آپ سے پھر ملاقات کرنا چاہیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔پی جے میرسے بات کر کے مجھے اندازہ ہوا یہ ذمہ داراورverstileشخصیت ہیں۔ایک اور بات جو معلوم ہوئی وہ یہ کہ انھوں نے اتنا نام ایسے ہی نہیںکمایا بلکہ ایک عرصے کی محنت اور تگ و دو اس نام کے پیچھے چھپی تھی اللہ ان کوہمیشہ خوش اور کامیاب رکھے۔آمین۔
انداز بیاں گرچہ میرا شوق نہیں ہے شاید کے اتر جائے تیرے دل میں میری بات
پی جے میرسے ریڈیو میںگفتگو کا موقع ملا انٹر ویو لینے کے بعد ڈیلی سر زمین کے ذریعےاپنی گفتگو آپ تک پہنچا رہی ہوں ۔پی جے میرصاحب پاکستان کی صحافت کی دنیا کے چمکتے ہوئے ستاروں میں سے ایک ستارہ ہیںپاکستان کے نامور جرنلسٹ پرویز جمیل میر جو کہ پی جے میر کے نام سے مشہور ہیں ۔پاکستان کے نامور صحافیوں میں سےایک ہیں۔Din Newsکہ یہ پریزیڈنٹ تین شوز کو hostکر رہے ہیں جن میں سے ان کا شو Q&A With PJ Mirبےحد مقبولیت کا حامل ہے۔ایک چیز جو ان کے شو کو منفرد کرتی ہے وہ یہ کہ میر نے نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی وزیر اعظم اور وزیر اعلی کے بھی انٹرویو ز کیے۔میر نے میڈیا میں خدمات سر انجام دینےکے علاوہ پاکستان آرمی میں بھی کام کیا اور کرکٹ میں بےحد نام کمایا۔آج ان سے باتیں کرنے کا موقع ملا بوم ایف ایم کے ذریعے،آئیں ان سے ملیں۔
میرااس فیچر(انٹر ویو )کو پبلش کرانے کا خاص مقصد یہ ہے کہ یوتھ اس کو پڑھ کر تلقین حاصل کرئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمن اسد: آپ کا نام P J Mir کیسے پڑاکیونکہ پرویز جمیل میر تو اپنے آپ میں ایک کھڑکتا ہوا نام ہے ؟
پی جے میر:(مسکراتے ہوے)یہ نام میرا تکے سے پڑ گیا۔جب میں Englandمیں تھا تو وہاں کے لوگوں سےپرویز نہیں بولا جاتا تھا وہ مجھے ""پاوے""کہہ کے بلانے لگے تو اس وقت میں نے ان کوکہا کہ اگر پرویز نہیں بولا جاتاتو PJکہہ دو ۔ویسے مجھے فیملی میں تو پرویز ہی کہا جاتا ہے۔
ثمن اسد: تعلیم کا آغازکہاں سے کیا؟
پی جے میر:آغاز تو پنڈی سے کیاCantonment Public Secondary School سے پھر لاہور سے Cathedral Schoolسے اور پھر گورنمنٹ کالج لاہور اور پھر Englandچلا گیا۔
ثمن اسد: کریر کا آغازکہاں سے کیا؟
پی جے میر:سب سے پہلے آرمی میں گیا پھر کیونکہ کالج میں کرکٹ میں بہت آگے رہا تو پاکستان کرکٹ ٹیم میں شمولیت اختیار کی اس کے بعد میڈیا میں آ گیا۔
ثمن اسد: آرمی کونسے سن میں جوائن کی اور آرمی میں کتنے سال گزارے؟
پی جے میر: میں نےآرمی1971 میںجوائن کی اور آرمی میں زیادہ نہیں ڈیڑھ سال گزارےپھرجب سیز فائر ہوا تو چھوڑ دیا۔
گفتگو کے آغاز سے میں ان کی شخصیت سے بہت متاثر ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمن اسد: آرمی سے آپ کرکٹ ٹیم میں آ گئے۔کرکٹ میں آپ بطور بالررہے یا بیٹسمین؟
پی جے میر:آل راونڈر۔اس وقت پاکستان کرکٹ ٹیم میں دو ہی آل راونڈرتھے۔عمران اور میں۔ہم دونوںاکٹھے کھیلتے تھے۔
ثمن اسد: کرکٹ میں کس سے متاثرتھے؟
پی جے میر:Viven Richardنے مجھے بہت متاثرکیا۔
ثمن اسد:کرکٹ سے میڈیامیںکیسے آنا ہوا؟
پی جے میر:پنڈی میںمیچ کے دوران جب میں88رنزبناکر آوٹ ہو کے نکلا تو PTVمیچ دیکھا رہا تھا۔وہاں میرا لمبا انٹرویو ہوا۔وہاں سے میرا شوق بڑھا۔میں نے بھی کرکٹ کمنٹری سے آغاز کیا۔
ثمن اسد: میڈیا میں کس چینل سے آغاز کیا؟
پی جے میر:پاکستان میں PTV سے بطور کرکٹ کمینٹیٹرپھرکیونکہ انگلینڈ رہازیادہ تر وہاںTv Asiaشروع کیاجو آج Zee TVہےدو بھائی تھےجو انڈیاسے تھے اجیتا بچن اور امیتاب بچن اور یہاں سے فیصل شیرجان،طاہر خان اور جاوید پاشا۔پھر جب یہ Zee TVبن گیا تو چھوڑ دیااس کے بعدہم نے شروع کیا " پا""کستان چینل""""جو آج ARY Digitalسے جانا جاتا ہے۔آج میں فخرسے کہہ سکتا ہوںکہ ہم نے ایک کمرے سے کام شروع کیا اور آج یہ ایک بڑا چینل ہے۔
ثمن اسد: ARYچھوڑ کر DIN Newsجوائن کرنے کی خاص وجہ؟
پی جے میر:کیونکہ انسان زندگی میں آگے بڑ ھتا رہتا ہےاسی لیے میں نے یہاں جوائن کیا۔
ثمن اسد:2007میں آپ نے پاکستان کرکٹ ٹیم میں بطورمیڈیا مینیجر کام کیا ؟
پی جے میر:ہاں کیونکہ اس وقت پاکستان کا عکس بہت برا جا رہا تھا دوسرے ممالک میں۔اس وقت یہ باتیں ہوتی تھیں کہ پاکستان کا امیج ٹھیک کرنا ہے یہ جو forign pressوالےتھے ایسے سوال کر دیتے کہ جب ہمارے لڑکےجواب دیتے تو اسے mis construeکیا جاتاکیونکہ ہمارے لڑکے انگریزی میں اچھے نہیں تھےان دنوں انزمام کیپٹن تھے تو میں نے کہا کہ جس نے بات کرنی ہے وہ اردو میں کرے اور اس بات کو میں انگریزی میں ٹرانسلیٹ کر کے بتاتا تھا۔تو press conferenceکے بعد انزمام اردو میں جواب دیتے اور میںانگلش میں ٹرانسلیٹ کر کے بتاتا تھا۔تو یہ SOPتھی۔
ثمن اسد:لوگوں کا کہنا ہے دوسرےشعبوں کی طرح کرکٹ میں بھی نئے ٹیلنٹ کو آگے نہیں آنے دیا جا رہا آپ agreeکرتے ہیں؟
پی جے میر:ہاں بلکل ایسے ہی ہےہمارے سلیکٹرز over the period میڈیاوکر سے رہے ہیں انھوں نے کبھی persistنہیں کیااور یہی وجہ ہے کہ اچھے لڑکوں کو کبھی ٹھہرنے نہیں دیتے۔میں دل سے کہتا ہوںغریب لڑکوں کو یہ chanceنہیں دیتے۔سفارشی اندر ڈال دیتے ہیں۔
ثمن اسد:ویسے آپ کس شعبے کو سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا یہ شعبہ ٹھیک کام کر رہا ہےاورکس شعبے کو صیح کرنے کی ضرورت ہے۔
پی جے میر:دیکھیں پاکستان آرمی کا یہ شعبہ آج اس لیے کامیاب ہے کہ ایک حکم ہوتاہے اور اس پہ عمل ہوجاتا ہے ۔اگر پاکستان کے ہر شعبے کی مینجمینٹ ایسے ہی کام کرنے لگے تو بہت اچھا ہو گا۔
آپ سے بات کر کے بہت اچھا لگا۔آپکا بہت شکریہ کے آپ شو میں تشریف لائے۔انشااللہ آپ سے پھر ملاقات کرنا چاہیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔پی جے میرسے بات کر کے مجھے اندازہ ہوا یہ ذمہ داراورverstileشخصیت ہیں۔ایک اور بات جو معلوم ہوئی وہ یہ کہ انھوں نے اتنا نام ایسے ہی نہیںکمایا بلکہ ایک عرصے کی محنت اور تگ و دو اس نام کے پیچھے چھپی تھی اللہ ان کوہمیشہ خوش اور کامیاب رکھے۔آمین۔
Comments
Post a Comment