Libaas

ڈریس فار سکسیس! حب الوطنوں کی جانب سے پاکستان میں پہلی بار شروع کی جانے والی ایسی تحریک جیس نے پاکستانیوں کو ناکامی کے خوف سے نکالنے کے لئے اچھے لباس کو پہننے کا سلیقہ اور خود کو لوگوں کے سامنے پیشہ وارانہ مقابلہ کرنے کا طریقہ سکھانہ شروع کیا ۔ آج کے اس دور میں جب پاکستانیوں کو کامیابی کی صورت دیکھنے کی شدید ضرورت ہے اور جب پاکستانی دوسری تمام قوموں کہ ساتھ شانہ بشانہ چلنا چاہتے ہیں ۔ آج اس وقت ہمارے طالب علم، علم کی دولت سے مالا مال ہو کر بھی جب اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے دوسرے ممالک کا رخ کرتے ہیں تو ائیر پورٹ پر ان کو تھرڈ ورلڈ کنٹری کا باشندہ ہونے کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ تفتیش کے کٹہرے پے گھنٹوں ڈھائی دن کا سفر کرنے کے بعد کھڑے ہمارے پاکستانی کبھی دہشت گرد ملک سے وابستہ ہونے کا اور کبھی غریب ملک ہونے کا داغ برداشت کرتے ہیں ۔ ایسا ہی واقعہ دیکھتی ہوئی ایک آنکھ نیو یارک کے ایر پورٹ پہ اس بات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرتی رہی ایک سوال ذہن میں لئے کہ آخر ایسا کیوں میرے ہم وطنوں کے ساتھ ہی کیوں آخر کس چیز کی کمی ہے تو اس ہستی کو اس کے تجربہ کی وجہ سے حقائق تک پہنچنے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ اطلا ع کے لئے عرض ہے کہ یہ ہستی پاکستان کی پیدائش ہے اور یو ای ٹی سے انجنئیرنگ کر کے لاجیکل تھنکنگ رکھنے کا وہ تجربہ ان کو نیو یارک لے گیا جہاں حامد سعید صاحب نے ایف آئی ٹی سے فیشن سٹڈیز حاصل کی یہ ہی نہیں انھوں نے پرسنیلیٹی گرومنگ اور کنسلٹیشن کا آغاز کیا ۔ نیو یارک کی کئی نامور شخصیات ان سے رہنمائی لیتی اور لباس زیب تن کرنے کے طریقوں سے مستفید ہوتی۔ جب انھوں نے یہ دیکھا کے ان کا اپنا ملک جہاں ان کی رہنمائی کی سخت ضرورت ہے اور ڈریس فار سکسیس کی نالج سے اپنے نوجوانوں کو مستفید ہونا چا ہیئے تو یہ محبت اور جذبہ ان کو پاکستان میں واپس لے آیا۔
ڈریس فار سکسیس نے الیکٹرونک میڈیا کے زریعے اپنا پیغام لوگوں تک پہنچایا اور پھر سوشل میڈیا سے ہوتے ہوئے پرنٹ میڈیا کا ساتھ حاصل کیا تا کہ اس نالج کو اپنے ہم وطنوں تک بھرپور طریقے سے پہنچا سکیں تا کہ وہ نا صرف اپنے ملک میں بلکہ دوسرے ممالک میں جا کر اپنے ملک کی عکاسی کر سکیں۔ ڈریس فار سکسیس کی نالج سے استفادہ حاصل کرنے کے لئے کالجوں اور یونیورسٹی نے سیشن کا آغاز کرنا شروع کیا اور دن دگنی رات چگنی ترقی کرتی ہوئی یہ کیمپین آج کمپنیوں اور بینکوں تک کی ضرورت بن چکی ہے۔ تحریک میں حب الوطنی کے جذبات کا اندازہ ایسے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ تحریک نے گروپس کی صورت میں تو لوگوں کو رہنمائی دی بلکہ انفرادی طور پہ بھی گرومنگ کو پروان چڑھایا۔آج پاکستان کے نامور پروفیشنلز انفرادی طور پر ڈریس فار سکسیس سے مستفید ہو رہے ہیں اور ملک کا سر اپنے ظہورسے فخر سے بلند کر رہے ہیں یہاں تک کے بیسٹ ڈریس مین کا اوارڈ تک جیت لیا ہے۔
ڈریس فار سکسیس کی بنیاد ان اجزا پر رکھی گئی ہے کہ انسان کو لباس اپنی پرسنیلٹی کے مطابق پہننا چاہیے ۔
انسان کا بالوں کا رنگ، آنکھوں کا رنگ اور سکن ٹون اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ کون سا رنگ پہنے۔
لباس میں گلے کا ڈیزائن بہت اہمیت کا حامل ہے جو فیس شیپ کے مطابق ہوتا ہے۔
لباس کے کٹس انسانی جسم کی ٹائپ کے مطابق ہونے چاہیے۔
اب چونکہ ڈریس فار سکسیس پروفیشنلز کو تعلیم دے رہا ہے تو اس کا آخری جز یہ ہے کہ آپکا پروفیشن کیا ہے؟
ڈریس فار سکسیس ٹیم کا ماننا یہ ہے کہ انسان کی ناکامی کی تین وجوہات ہو سکتی ہیں۔
جسمانی صحت
علم
ذاتی حلیہ
ان میں سے کسی ایک بھی چیز کی کمی انسان کو ناکامی کی جانب لے جاتی ہے اور کئی لوگ ایسے دیکھے ہیں جو جسمانی صحت اور علم ہونے کے باوجود وہ اپنے ذاتی حلیہ سے وہ عکس نہیں ڈال سکتے جو ڈالنا چاہیے اوراس طرح اسے عزت اور رتبے کو حاصل کرنے میں تو ناکام رہتے ہی ہیں زندگی میں ان کا ظاہری حالت ان کو کبھی کامیابی کی سیڑھی نہیں چڑھنے دیتی۔
ڈریس فار سکسیس کا کانسیپٹ پروفیشنلزکو اس بات کی آگاہی دے رہا ہے کہ ٰ ہر انسان کا جسم مختلف ہے یہاں تک کے اس کے چہرے کی رنگت اور قد کاٹھ بھی ایک دوسرے سے مختلف ہے اور آج کل کا ٹرینڈ لوگوں میں متعارف کرانے کے لئے ریڈی میڈ گارمنٹس کا فیشن سر پکڑ چکا ہے ۔ اس ٹرینڈ کو فالو کرنے والوں کے لئے ڈریس فار سکسیس کی کیمپین کسٹمائز ڈکپڑے پہننے کا مشورہ دیتی ہے۔
کامیاب ہو گا ہمارا نوجوان کامیاب ہو گا پاکستان،کامیاب ہو گا پاکستان تو نام ہو گا روشن ملک قائد کا ہر اقبال کا ہو گا خواب پورا۔ پاکستان زندہ باد
Saman Asad

Comments

Popular posts from this blog

Know your face shape

Contemporary women fashion

Wedding flower jewlary